ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اسرائیل سے اپنے مفاد میں رابطہ کیا :سابق ایرانی سیکورٹی ذمہ دار

اسرائیل سے اپنے مفاد میں رابطہ کیا :سابق ایرانی سیکورٹی ذمہ دار

Thu, 09 Jun 2016 17:39:05    S.O. News Service

تہران،9جون(آئی این ایس انڈیا)’وائس آف امریکا‘کے فارسی زبان کے چینل نے اپنے 20 اور 27 مئی کو نشر ہونے والے دو پروگراموں میں ایران کے اسرائیل اور امریکا کے ساتھ رابطوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس دوران ایران کے سابق ذمہ داران کے انٹرویو کیے گئے جن میں ڈاکٹر شاہین داد خواہ بھی شامل ہیں۔ وہ صدر محمد خاتمی کی حکومت میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق مذاکراتی ٹیم کے رکن ، حسن روحانی کی قومی سلامتی امور کونسل کی سپریم کمیٹی کی سربراہی کے دور میں ان کے مشیر ، ایران کی وزارت سیکورٹی میں انٹیلجنس برانچ کے معاون، گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے فوری بعد ایران امریکا اور افغانستان اور اسی طرح ایران عراق اور امریکا کے درمیان سہ فریقی بات چیت میں مذاکراتی وفد کے رکن رہ چکے ہیں۔ایران کی سیکورٹی اور انٹیلجنس کی وزارت نے شاہین دادخواہپر جاسوسی کا الزام عائد کیا اور انقلابی عدالت نے ان کو پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ وہ جنوری 2010 میں بدنام زمانہ ایوین جیل میں داخل ہوئے اور دسمبر 2015 میں باہر آئے۔ جیل میں رہتے ہوئے دادخواہ نے مختلف ذمہ داران اور اخبارات کو ارسال کیے گئے کھلے خطوط میں امر کی تصدیق کی کہ انہوں نے اسرائیل سمیت ایسے ممالک سے رابطہ کیا تھا جن کو ایران دشمن قرار دیتا ہے اور ان رابطوں کی ذمہ داری ایرانی حکام کی جانب سے سرکاری طور پر سونپی گئی تھی۔شاہین دادخواہ کی عمر 45 برس ہے اور وہ ایران کے مشرقی صوبے آذربائیجان کے صدر مقام تبریز شہر میں پیدا ہوئے۔ وہ بنیادی طور پر ترک اور آذر نژاد ہیں۔دادخواہ نے اٹلی سے بین الاقوامی تعلقات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی اور اسپین سے اسی مضمون میں اپنا ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔دادخواہ فارسی، ترکی، انگریزی، ہسپانوی اور اطالوی زبانیں بول سکتے ہیں۔ وہ 1980ء میں صرف 19 سال کی عمر میں ایرانی سیکورٹی اور انٹیلجنس کے ادارے میں انسداد جاسوسی کی شاخ کے ساتھ بطور معاون منسلک ہوئے۔ وہ 1999ء میں سیکورٹی اور انٹیلجنس کی وزارت میں قومی سلامتی کے امور کے لیے اعلی مشیر مقرر ہوئے۔جنوری 2010 میں اپنی گرفتاری کے وقت وہ مجلس تشخیص مصلحت نظام کے زیر انتظام اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر میں بطور مشرق وسطی کے امور کے ماہر کام کررہے تھے۔وائس آف امریکا فارسی چینل کے ساتھ انٹرویو میں دادخواہ نے بتایا کہ ان کی گرفتاری کی اہم وجہ محمود احمدی نژاد کی نیوکلیئر پالیسیوں کی مخالفت تھی۔دادخواہ نے سیکورٹی اور انٹیلجنس کی ایرانی وزارت میں بدعنوانی کی بعض کارروائیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بعض غیرملکی عناصر کے وزارت میں سرائیت کر جانے کے حوالے سے بھی شک و شبہات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد گفتگو کا رخ مرشد اعلی کے دفتر میں بعض اہل کاروں کی بدعنوانی کی جانب موڑ دیا۔اس موقع دادخواہ نے انتہائی محتاط انداز میں گفتگو کی گویا کہ وہ ایران میں انٹرویو دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’ایسے غیر متعلقہ افراد بھی ہیں جو خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے امور میں مداخلت کرتے ہیں اور بیرون ملک میں ذمہ دار اداروں کے متوازی، قانون کے برخلاف اقدامات کرتے ہیں۔ ان میں 4 سے 5 افراد مرشد اعلی کے دفتر سے ہیں جنہوں نے سیکورٹی خلاف ورزیوں کے علاوہ مالی بدعنوانی کا ارتکاب بھی کیا۔ میرے پاس اس حوالے سے بعض دستاویزات تھے جو میں نے حسن روحانی کی حکومت کے حوالے کردیے‘۔
             شاہین دادخواہ نے ایرانی مرشد اعلی کے نام جیل سے ایک کھلا خط ارسال کیا تھا جو ان کے اسرائیل سے رابطے کے متعلق تھا۔ رابطے کی ذمہ داری وزارت سیکورٹی اور انٹیلجنس نے سونپی تھی اور بعد ازاں یہ ذمہ داری ہی ان کے لیے الزام بن گئی۔ دادخواہ کا کہنا ہے کہ مجھ پر عائد الزامات کا تعلق 2010 میں میری اسرائیل کے وزیر صنعت سے ملاقات سے ہے جب میں ترکی وفد میں شامل تھا۔ یہ ملاقات وزارت سیکورٹی کے حکم پر اور اس کے ساتھ کوآرڈی نیشن سے کی گئی۔ مقبوضہ اراضی میں میرے دورے اور اسرائیل کے انٹیلجنس اداروں کے ساتھ رابطے، درحقیقت وزارت سیکورٹی میں انسداد جاسوسی کے ڈائریکٹروں کے مطالبے کے نتیجے اور بہرام آپریشنز کو مکمل کرنے کے سلسلے میں ہوئے جن کی منصوبہ بندی خود ان ڈائریکٹروں نے کی تھی۔
            6 سال قبل اسرائیلی وزیر صنعت کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں دادخواہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اصلی نام کے ساتھ سفر نہیں کیا تھا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ مختلف سطح کے اسرائیلی اور امریکی ذمہ داران کے ساتھ ان کی تمام ملاقاتیں ایرانی اسلامی جمہوریہ کے نظام کے براہ راست نمائندے کے طور پر ہوئیں۔ ملاقاتوں کا فیصلہ حکومت نے کیا اور اس کو ان کا مکمل علم تھا۔ دورے کے اختتام پر ایرانی حکومت کے ذمہ داروں کے سامنے دورے کے نتائج کے بارے میں رپورٹیں پیش کی گئیں۔ دادخواہ نے واضح کیا کہ یہ رابطے ایرانی حکومت اور نظام کے مفادات کے پیش نظر کیے گئے تاہم انہوں نے ان مفادات کی نوعیت اور اسرائیلی جانب کے ساتھ زیربحث آنے والے معاملات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔


Share: